تفسير سورة الذاريات، الآيات 55–56
سورہ ذاریات، آیات 55–56 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ
فما ربحت تجارتهم؛ بل خسرت؛ فعلى ذلك جائز قوله: (فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ) بل بمحمود، واللَّه أعلم.
وقال أبو بكر الأصم: (فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ)؛ لأنه قد بلغ الرسالة، وما أمر بتبليغه إلى الخلق، وقام بأمره ونصح خلقه، وخفض جناحه لهم، فكيف يلام؟! أي: ما أنت بالذي تلام على صنيعك وعلى فعلك، وإن كان بعض الناس يلومك، وهم الكفار.
وفيه دلالة الحفظ والعصمة له عن الزيغ والزلات؛ إذ لو كان بالذي يحتمل الزيغ والزلة، لكان يحتمل الملامة؛ فدل أنه لا يحتمل الزيغ والعدول عن الحق.
وقوله عز وجل: (وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ (55).
جائز أن يكون الأمر بالتذكير للكل، ثم أخبر أن الذكرى تنفع المؤمنين، لا الكل.
وجائز: فذكر المؤمنين؛ فإن منفعة الذكرى لهم، ولمن أنصف، دون المكابرين المعاندين، واللَّه أعلم.
* * *
قوله تعالى: (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (56) مَا أُرِيدُ مِنْهُمْ مِنْ رِزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ (57) إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ (58) فَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذَنُوبًا مِثْلَ ذَنُوبِ أَصْحَابِهِمْ فَلَا يَسْتَعْجِلُونِ (59) فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ يَوْمِهِمُ الَّذِي يُوعَدُونَ (60).
وقوله عز وجل: (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ).
إن كان المراد من ذكر العبادة: حقيقة العبادة فيخرج تأويله على وجهين:
أحدهما: جوابا لمن لا يرى الجن والإنس يؤمرون بالعبادة ويمتحنون بها، فقال: (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ)، أي: خلقهم على معرفة المحاسن والمساوئ، والتمييز بين ما يؤتى وما يتقى بما ركب فيهم من أسباب التمييز والمعرفة، لا يتركهم سدى مهملين؛ بل لامتحانهم بالعبادة، والقيام بشكر ما أنعمت عليهم من أنواع النعم؛ إذ الحكمة توجب ذلك، وتدفع تركهم سدى هملا، واللَّه أعلم.
والثاني: خرج جوابا لمن يرى العبادة دونه جائزا؛ لقولهم: (مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى)، فقال: (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ)، لم أخلقهم لعبادة غيري، أو لآمرهم بعبادتي، لا لآمرهم بعبادة غيري؛ كما قاله بعض الكفرة بقولهم: (وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا)؛ ردًّا ونقضا لاعتقادهم، واللَّه أعلم.
ثم قوله عز وجل: (إِلَّا لِيَعْبُدُونِ) على حقيقة العبادة؛ لوجهين:
أحدهما: على حقيقة فعل العبادة، وعلى هذا الوجه لم تكن الآية معمولا بها على العموم، بل على الخصوص، وهم المؤمنون من الجن والإنس دون الكفرة منهم؛ فإنه لا
ان کی تجارت نے نفع نہیں کمایا، بلکہ وہ خسارے میں رہی؛ پس اسی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کے فرمان (فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ) سے یہ مراد ہونا جائز ہے کہ ”بلکہ آپ قابلِ مدح و ستائش ہیں“، واللہ اعلم۔
اور ابو بکر الاصم نے کہا: (فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ) (آپ ملامت زدہ نہیں ہیں) اس لیے کہ آپ نے رسالت اور جس چیز کے مخلوق تک پہنچانے کا آپ کو حکم دیا گیا تھا اسے کما حقہ پہنچا دیا، اللہ کے حکم کی بجا آوری کی، اس کی مخلوق کی خیر خواہی فرمائی، اور ان کے لیے اپنی شفقت و تواضع کے بازو بچھا دیے، تو پھر آپ پر کیونکر ملامت کی جائے گی؟! یعنی آپ ایسے نہیں ہیں کہ اپنے کسی کام یا عمل پر قابلِ ملامت ٹھہریں، اگرچہ بعض لوگ یعنی کفار آپ پر ملامت کرتے ہوں۔
اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کجی، لغزشوں اور خطاؤں سے حفاظت و عصمت کی دلیل ہے؛ کیونکہ اگر آپ میں کجی اور لغزش کا کوئی امکان ہوتا تو آپ میں ملامت کا بھی امکان ہوتا؛ پس اس سے ثابت ہوا کہ آپ میں کجی اور حق سے انحراف کا کوئی امکان نہیں ہے۔
اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: (وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ) ”اور نصیحت کرتے رہیے کیونکہ نصیحت ایمان والوں کو فائدہ پہنچاتی ہے“۔
یہ جائز ہے کہ نصیحت کرنے کا حکم سب کے لیے عام ہو، پھر خبر دی کہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دیتی ہے، سب کو نہیں۔
اور یہ بھی جائز ہے کہ مراد ہو: پس آپ مومنوں کو نصیحت کیجیے؛ کیونکہ نصیحت کا فائدہ انہی کے لیے ہے اور اس شخص کے لیے ہے جس نے انصاف کا راستہ اختیار کیا، نہ کہ ہٹ دھرم اور عناد رکھنے والے سرکشوں کے لیے، واللہ اعلم۔
* * *
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ٥٦ مَا أُرِيدُ مِنْهُمْ مِنْ رِزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ ٥٧ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ ٥٨ فَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذَنُوبًا مِثْلَ ذَنُوبِ أَصْحَابِهِمْ فَلَا يَسْتَعْجِلُونِ ٥٩ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ يَوْمِهِمُ الَّذِي يُوعَدُونَ) ”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس کے سوا کسی اور مقصد کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں میں ان سے کوئی روزی نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں بے شک اللہ ہی بڑا روزی دینے والا، بڑی قوت والا، نہایت مضبوط ہے پس بے شک جن لوگوں نے ظلم کیا ان کے لیے (عذاب کا) ویسا ہی ڈول (حصہ) ہے جیسا ان کے ساتھیوں کا حصہ تھا، لہٰذا وہ مجھ سے جلدی نہ مچائیں پس تباہی و ہلاکت ہے کافروں کے لیے ان کے اس دن کی وجہ سے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے“۔
اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ) ”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس کے سوا کسی اور غرض کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں“۔
اگر عبادت کے ذکر سے مراد حقیقی عبادت ہو تو اس کی تاویل دو وجوہ پر نکلتی ہے:
ان میں سے پہلی وجہ: یہ ان لوگوں کے رد میں جواب ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ جن و انس کو نہ عبادت کا حکم دیا جاتا ہے اور نہ اس کے ذریعے ان کا امتحان لیا جاتا ہے، چنانچہ فرمایا: (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ)؛ یعنی اللہ نے ان میں تمیز و معرفت کے جو اسباب ودیعت فرمائے ہیں ان کے ذریعے انہیں اچھائیوں اور برائیوں کی معرفت پر، اور جن چیزوں کو اپنایا جائے اور جن سے بچا جائے ان کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت پر پیدا فرمایا، نہ یہ کہ وہ انہیں یونہی بے کار و بے مقصد چھوڑ دے؛ بلکہ اس لیے تاکہ عبادت کے ذریعے ان کی آزمائش کرے اور ان تمام انواع و اقسام کی نعمتوں کے شکر کی ادائیگی کا امتحان لے جو اس نے ان پر انعام فرمائی ہیں؛ کیونکہ حکمت کا تقاضا بھی یہی ہے اور وہ انہیں یونہی بے کار و مہمل چھوڑ دیے جانے کی نفی کرتی ہے، واللہ اعلم۔
اور دوسری وجہ: یہ ان لوگوں کے رد میں جواب کے طور پر وارد ہوا ہے جو اللہ کے سوا غیر کی عبادت کو جائز سمجھتے ہیں؛ کیونکہ ان کا دعویٰ تھا: (مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى) ”ہم تو ان کی عبادت محض اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب تر کر دیں“، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ) یعنی میں نے انہیں اپنے غیر کی عبادت کے لیے پیدا نہیں کیا، یا (یہ مفہوم ہے کہ) تاکہ میں انہیں اپنی عبادت کا حکم دوں نہ یہ کہ اپنے غیر کی عبادت کا حکم دوں؛ جیسا کہ بعض کفار نے اپنے اس قول میں کہا تھا کہ: (وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا) ”اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے“؛ پس یہ ان کے باطل عقیدے کے رد اور ابطال کے لیے فرمایا گیا، واللہ اعلم۔
پھر اللہ عزوجل کا ارشاد (إِلَّا لِيَعْبُدُونِ) حقیقی عبادت کے معنی پر دو وجوہ سے محمول ہے:
ان میں سے پہلی وجہ: خود فعلِ عبادت کی حقیقت پر محمول ہونا، اور اس وجہ کی رو سے یہ آیت اپنے عموم پر جاری نہیں ہوگی، بلکہ خصوص پر ہوگی، یعنی جن و انس میں سے وہ لوگ جو ایمان والے ہیں نہ کہ ان کے کفار؛ کیونکہ یہ بات جائز نہیں