تأويلات أهل السنةأبو منصور الماتريدي رحمه الله

تفسير سورة الطور، الآيات 12–16

سورہ طور، آیات 12–16 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ

الجزء 9 · الصفحة 403

ص 403سورة الطورالمتن العربي

عليهم السلام.

ويحتمل: لتوحيده، أو لحججه، أو للبعث.

وقوله عز وجل: (الَّذِينَ هُمْ فِي خَوْضٍ يَلْعَبُونَ ‌‌(12).

نعتهم ووصف أمرهم، حيث قال: (الَّذِينَ هُمْ فِي خَوْضٍ يَلْعَبُونَ)، والخوض: هو البحث عن الشيء، إلا أن الخوض المطلق ذكروه واستعملوه في الباطل خاصة.

وقوله عز وجل: (يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا ‌‌(13).

أي: يدفعون في النار على وجوههم.

وقال أبو عبيدة: يدفعون دفعًا في القفا خاصة.

وقوله عز وجل: (هَذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُونَ ‌‌(14).

هو على الإضمار؛ كأنه يقال لهم: هذه النار التي كنتم بها تكذبون في الدنيا، والله أعلم.

وقوله عز وجل: (أَفَسِحْرٌ هَذَا أَمْ أَنْتُمْ لَا تُبْصِرُونَ ‌‌(15).

يقال لهم في الآخرة لما ألقوا في النار: أفسحر هذا؟! مقابل ما قالوا هم للحجج والبراهين في الدنيا إنها سحر.

(أَمْ أَنْتُمْ لَا تُبْصِرُونَ) هذا يخرج على وجهين:

أحدهما: يقال لهم لما أدخلوا النار: لعل ما أنتم فيه ليس بعذاب، وأنها ليست بنار، وأنتم لا تبصرون لذلك؛ كما أخبر عنهم في الدنيا: أنهم يقولون لحججه؛ حيث قال: (وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ. لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا. . .) الآية، فقال مقابل ذلك (أَفَسِحْرٌ هَذَا أَمْ أَنْتُمْ لَا تُبْصِرُونَ) أي: لعلكم لا تبصرون.

والثاني: يقول: (أَفَسِحْرٌ هَذَا أَمْ أَنْتُمْ لَا تُبْصِرُونَ) في الدنيا: أن هذا ينزل بكم في الآخرة، واللَّه أعلم.

وقوله عز وجل: (اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ … ‌‌(16) هذا كما قال إبليس: (سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِيصٍ)؛ فعلى ذلك قوله عز وجل: (اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ) أصبرتم أو جزعتم؛ فلا ينفعكم ذلك.

وقوله عز وجل: (إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ).

ص 403سورة الطوراردو ترجمہ

علیہم السلام کو،

اور یہ احتمال بھی ہے کہ: (اس سے مراد) اس کی توحید کو، یا اس کے دلائل و براہین کو، یا دوبارہ جی اٹھنے (بعث) کو جھٹلانے والے ہوں۔

اور اللہ عزوجل کا ارشاد: (الَّذِينَ هُمْ فِي خَوْضٍ يَلْعَبُونَ ۝١٢)

اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف اور ان کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: (الَّذِينَ هُمْ فِي خَوْضٍ يَلْعَبُونَ)؛ اور 'خوض' کسی چیز میں غور و بحث کرنے کو کہتے ہیں، البتہ اہل لغت نے ذکر کیا ہے کہ مطلق 'خوض' کا استعمال خاص طور پر باطل (فضول اور بیہودہ باتوں میں پڑنے) کے لیے ہوتا ہے۔

اور اللہ عزوجل کا ارشاد: (يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا ۝١٣)

یعنی وہ اپنے چہروں کے بل آگ میں دھکیلے جائیں گے۔

اور ابو عبیدہ نے کہا: ان کو خاص طور پر گدی (گردن کے پچھلے حصے) پر سخت دھکے دیے جائیں گے۔

اور اللہ عزوجل کا ارشاد: (هَذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُونَ ۝١٤)

یہ کلامِ محذوف پر مبنی ہے؛ گویا ان سے کہا جائے گا: یہ وہی آگ ہے جسے تم دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے، واللہ اعلم۔

اور اللہ عزوجل کا ارشاد: (أَفَسِحْرٌ هَذَا أَمْ أَنْتُمْ لَا تُبْصِرُونَ ۝١٥)

جب انہیں آگ میں ڈالا جائے گا تو آخرت میں ان سے (بطور توبیخ) کہا جائے گا: کیا یہ کوئی جادو ہے؟! ان کے اس قول کے بدلے میں جو وہ دنیا میں دلائل و براہین کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ یہ تو جادو ہے۔

(أَمْ أَنْتُمْ لَا تُبْصِرُونَ) اس کے دو محمل ہو سکتے ہیں:

پہلا محمل: جب انہیں آگ میں داخل کیا جائے گا تو ان سے کہا جائے گا: شاید جس حال میں تم مبتلا ہو وہ عذاب نہیں ہے، اور نہ ہی یہ کوئی آگ ہے، بلکہ تمہیں یہ چیزیں دکھائی نہیں دے رہیں؛ جیسا کہ دنیا میں ان کے بارے میں خبر دی گئی کہ وہ اللہ کے دلائل و معجزات کے متعلق کہا کرتے تھے، چنانچہ فرمایا: (وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ. لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا. . .) الآیۃ، پس اسی کے مقابلے میں فرمایا: (أَفَسِحْرٌ هَذَا أَمْ أَنْتُمْ لَا تُبْصِرُونَ) یعنی شاید تمہیں دکھائی نہیں دے رہا۔

اور دوسرا محمل: فرمایا: (أَفَسِحْرٌ هَذَا أَمْ أَنْتُمْ لَا تُبْصِرُونَ) کیا تم دنیا میں یہ نہیں دیکھ پائے تھے کہ یہ عذاب آخرت میں تم پر نازل ہوگا، واللہ اعلم۔

اور اللہ عزوجل کا ارشاد: (اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ … ۝١٦) یہ ویسے ہی ہے جیسے ابلیس نے کہا تھا: (سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِيصٍ)؛ چنانچہ اسی پر اللہ عزوجل کا ارشاد محمول ہے: (اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ) خواہ تم صبر کرو یا بے قراری و واویلا کرو؛ تمہیں یہ کچھ فائدہ نہ دے گا۔

اور اللہ عزوجل کا ارشاد: (إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ)