تفسير سورة الطور، الآيات 36–37
سورہ طور، آیات 36–37 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ
وقوله عز وجل: (أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ).
أي: ليسوا هم بخالقين.
وقوله عز وجل: (أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ … (36) أي: يعلمون أنهم لم يخلقوهما.
وقوله: (بَلْ لَا يُوقِنُونَ) يخرج على وجهين:
أحدهما: أن ما يقولون إنما يقولون على الظن لا على اليقين.
والثاني: (بَلْ لَا يُوقِنُونَ) أي: لا يصدقون، وذلك في قوة علم اللَّه تعالى بأنهم لا يؤمنون.
فإن كان التأويل هذا، ففيه دلالة إثبات الرسالة؛ حيث أخبر عن الغيب.
وإن كان التأويل هو الأول، ففيه أن جميع ما يقولون، إنما يقولون على الظن والجهل، لا على اليقين، واللَّه أعلم.
وقوله عز وجل: (أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ (37) أي: ليس عندهم خزائن ربك؛ على ما ذكرنا في قوله تعالى: (أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ) أي: لم يخلقوا؛ فعلى ذلك هذا: ليس عندهم خزائن ربك، ولا هم المصيطرون.
ثم الآية تحتمل وجوها أيضًا:
تحتمل (أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ)، أي: الذي منعهم عن اتباع رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم هو المنعة التي عندهم، ليس ذلك عند رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم؛ فيكونون هم لذلك أحق بالرسالة، أي: ليسوا بأحق.
ويحتمل قوله تعالى: (أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ) أي: علم الغيب، أطلعوا على ذلك فعلموا أن رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم قد تَقَوَّلَ على اللَّه تعالى؟! أي: ليس لهم علم الغيب.
ويحتمل (أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ)، أي: علم الغيب، ليس ذلك عند رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم، بل عند رسوله ما يخبره ربه - جل وعلا - ليس عندهم شيء من ذلك.
وقوله عز وجل: (أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ).
أي: ليس هم المسلطين على أرزاقهم، ولا أرزاق غيرهم.
وقَالَ بَعْضُهُمْ: المسيطر: الرب تعالى، يقال: سيطر فلان، أي: صار ربا؛ وهو قول الْقُتَبِيّ.
وقال الزجاج: المسيطر: المسلط؛ يقال: سيطر، أي: تسلط.
وقال أبو بكر: المسيطر: الغالب القاهر، لكن الغلبة والقهر بالحجة عليهم، وهذا يخرج على المقابلة برسول اللَّه صلى الله عليه وسلم ما ذكر، ويحتمل على غير المقابلة، واللَّه أعلم.
اور اللہ عزوجل کا ارشاد گرامی ہے: (أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ)۔
یعنی: وہ خود ہرگز پیدا کرنے والے (خالق) نہیں ہیں۔
اور اللہ عزوجل کا فرمان ہے: (أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ …) یعنی: وہ بخوبی جانتے ہیں کہ انہوں نے ان دونوں کو پیدا نہیں کیا۔
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (بَلْ لَا يُوقِنُونَ)، اس کی تاویل دو وجوہ پر ممکن ہے:
ان میں سے پہلی وجہ: یہ کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں، محض گمان کی بنیاد پر کہتے ہیں، یقین و قطعیت کی بنیاد پر نہیں۔
اور دوسری وجہ: (بَلْ لَا يُوقِنُونَ) یعنی وہ تصدیق نہیں کرتے؛ اور یہ مفہوم اللہ تعالیٰ کے اس علمِ قطعی کی قوت میں ہے کہ وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔
پس اگر تاویل یہ (دوسری) ہو، تو اس میں نبوت و رسالت کے اثبات کی دلیل ہے؛ کیونکہ اس میں غیب کی خبر دی گئی ہے۔
اور اگر تاویل پہلی ہو، تو اس میں یہ بیان ہے کہ وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں، محض گمان اور جہالت کی بنا پر کہتے ہیں، یقین کی بنیاد پر نہیں، واللہ اعلم۔
اور اللہ عزوجل کا فرمان ہے: (أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ) یعنی: ان کے پاس آپ کے رب کے خزانے نہیں ہیں؛ جیسا کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد (أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ) کے تحت ذکر کیا کہ اس کا معنی ہے: ”انہوں نے پیدا نہیں کیا“؛ تو اسی کے مطابق یہاں بھی معنی یہ ہے: نہ تو ان کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں اور نہ ہی وہ مسلط و حاکم ہیں۔
پھر یہ آیت مزید چند وجوہ (احتمالات) بھی رکھتی ہے:
ایک احتمال یہ ہے کہ (أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ) سے مراد یہ ہو کہ جس چیز نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے روکا، وہ قوت و شوکت اور اقتدار ہے جو ان کے پاس ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (بزعمِ باطل) نہیں ہے؛ چنانچہ اسی وجہ سے وہ خود کو رسالت کا زیادہ مستحق سمجھتے ہیں، یعنی: وہ ہرگز اس کے زیادہ حق دار نہیں ہیں۔
اور اللہ تعالیٰ کے فرمان (أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ) کا ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد ”علمِ غیب“ ہو، یعنی: کیا وہ غیب پر مطلع ہو چکے ہیں کہ انہیں معلوم ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ پر کوئی بات خود گھڑ لی ہے؟! یعنی: حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس غیب کا کوئی علم نہیں۔
اور یہ احتمال بھی ہے کہ (أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ) سے مراد علمِ غیب ہو، یعنی وہ غیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (از خود) نہیں ہے، بلکہ آپ کے پاس تو وہ علم ہے جس کی خبر آپ کا رب جل وعلا آپ کو دیتا ہے، جبکہ ان (مشرکین) کے پاس اس میں سے کچھ بھی نہیں۔
اور اللہ عزوجل کا فرمان ہے: (أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ)۔
یعنی: وہ نہ تو اپنے رزق پر تسلط و اختیار رکھنے والے ہیں اور نہ ہی دوسروں کے رزق پر۔
اور بعض اہلِ علم نے فرمایا: المسيطر سے مراد رب تعالیٰ ہے، محاورے میں کہا جاتا ہے: سيطر فلان یعنی وہ رب (مالک و نگران) بن گیا؛ اور یہ ابن قتیبہ کا قول ہے۔
اور زجاج نے کہا: المسيطر سے مراد مسلط (غالب و حاکم) ہے؛ کہا جاتا ہے: سيطر یعنی اس نے تسلط اور غلبہ حاصل کر لیا۔
اور ابوبکر نے فرمایا: المسيطر سے مراد غالب اور قاہر ہے، لیکن (حقیقت یہ ہے کہ) دلیل و حجت کا غلبہ اور قہر ان پر ہے، اور جو کچھ ذکر ہوا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تقابل و موازنے پر محمول ہوتا ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ بغیر تقابل کے ہو، واللہ اعلم۔