تفسير سورة النجم، الآيات 25–28
سورہ نجم، آیات 25–28 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ
أو ما سموا واتخذوا الأصنام آلهة، وما ظنوا على اللَّه وادعوا أمره ورضاه في فعلهم، وغير ذلك مما كانوا يتمنون؛ يقول: ليس للإنسان ما تمنى أن يكون له؛ إنما يكون ذلك له بجعل اللَّه الذي له الدنيا والآخرة، وذلك قوله - تعالى -: (فَلِلَّهِ الْآخِرَةُ وَالْأُولَى (25).
وقوله عز وجل: (وَكَمْ مِنْ مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِنْ بَعْدِ أَنْ يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَى (26).
يخرج هذا على وجهين:
أحدهما: أي: كم ملك له شفاعة لا تنفع شفاعته وإن يشفع إلا لمن ذكر. والثاني: أي: كم من ملك في السماوات لا شفاعة له، ولا يشفع إلا لمن يشاء الله ويرضى أن يشفع، وهو كقوله - تعالى -: (فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ) و، أي: ليست لهم شفاعة تنفع.
وقال أبو بكر الأصم: إنما يشفعون في الآخرة لمن شفعوا في الدنيا واستغفروا لهم؛ كقوله تعالى: (وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ)، وقوله - تعالى -: (وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا. . .) الآية، وقولهم: (رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ)، وقد ذكرنا فيما تقدم الوجه في ذلك.
وقوله عز وجل: (إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ لَيُسَمُّونَ الْمَلَائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثَى (27) وإنما يسمي ذلك فُؤُم، وقد أضاف ذلك إلى الكل في الظاهر؛ لأن الذين يسمون الملائكة تسمية الأنثى، واللَّه أعلم.
ويجوز أن يذكر الكل، ويراد به البعض في اللغة، ومثله في القرآن كثير، واللَّه أعلم.
وقوله: (وَمَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا (28) أي: ما لهم بما يسمون الملائكة تسمية الأنثى من علم؛ لأن العلم بمعرفة الأنثى من الذكر بطريقين:
أحدهما: المشاهدة، يشاهد ويعاين فيعرف الأنثى من الذكر، وهم لم يشاهدوا الملائكة، فكيف يعرفون ذلك؟
والثاني: خبر الرسول المؤيد بالمعجزة، وهَؤُلَاءِ قوم لا يؤمنون بالرسل.
ولا يعرف بالاستدلال وطرق العلم الثلاثة التي ذكرنا، فإذا كان حصل قولهم بلا علم، ولكن على الظن، وذلك قوله تعالى: (إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ)، أي: ما يتبعون في قولهم الذي قالوا إلا الظن، ووجه ظنهم ما ذكرنا.
ثم أخبر أن ظنهم لا يغنيهم من الحق شيئًا، فهو يخرج على وجهين:
أحدهما: أن الظن الذي ظنوا لا يدفع عنهم ما عليهم من اتباع الحق ولزومه.
یا (ان کی تمنا سے مراد) ان کا بتوں کے نام رکھنا اور انہیں معبود ٹھہرانا ہو، اور اللہ پر جو گمان انہوں نے باندھا اور اپنے اس فعل میں اللہ کے حکم اور اس کی رضا کا جو دعویٰ کیا، اور اس کے علاوہ دیگر چیزیں جن کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: انسان کے لیے وہ سب کچھ نہیں ہوتا جس کے ملنے کی وہ تمنا کرے، بلکہ یہ تو صرف اسی صورت میں حاصل ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ ہی اسے مقدر فرمائے جس کے قبضۂ قدرت میں دنیا اور آخرت دونوں ہیں، اور یہی اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مفہوم ہے: ﴿فَلِلَّهِ الْآخِرَةُ وَالْأُولَى﴾ (آخرت اور دنیا تو الله ہی کے ہاتھ میں ہے)۔
اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿وَكَمْ مِنْ مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِنْ بَعْدِ أَنْ يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَى﴾ (اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ خدا جس کے لئے چاہے اجازت بخشے اور (سفارش) پسند کرے)۔
اس کے دو تفسیری پہلو نکلتے ہیں:
پہلا پہلو: یعنی آسمانوں میں کتنے ہی ایسے فرشتے ہیں جن کے پاس شفاعت کا حق تو ہے لیکن اگر وہ شفاعت کریں بھی تو ان کی شفاعت کسی کے حق میں نفع بخش نہیں ہوتی سوائے اس شخص کے جس کا ذکر کیا گیا (کہ جس کے لیے اللہ اجازت دے اور راضی ہو)۔ اور دوسرا پہلو: یعنی آسمانوں میں کتنے ہی ایسے فرشتے ہیں جن کے پاس (سرے سے) کوئی شفاعت کا حق نہیں ہے، اور نہ ہی وہ شفاعت کرتے ہیں مگر اسی کے لیے جس کے حق میں شفاعت کرنے کی اللہ چاہے اور پسند فرمائے؛ اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ﴾ ((تو اس حال میں) سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے حق میں کچھ فائدہ نہ دے گی)، یعنی ان کے پاس کوئی ایسی شفاعت ہی نہیں جو نفع پہنچا سکے۔
اور ابوبکر الاصم نے کہا ہے: فرشتے آخرت میں صرف انہی لوگوں کے لیے شفاعت کریں گے جن کے لیے انہوں نے دنیا میں شفاعت کی اور ان کے لیے مغفرت طلب کی تھی؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ﴾ (اور وہ زمین والوں کے لیے بخشش مانگتے ہیں)، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا...﴾ الآیۃ (اور وہ ایمان والوں کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب! تیری رحمت اور علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہیں، پس ان لوگوں کو بخش دے جنہوں نے توبہ کی...)، اور ان کا یہ قول: ﴿رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ﴾ (اے ہمارے رب! اور انہیں ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں داخل فرما جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے)؛ اور ہم اس سلسلے میں تفصیلی توجیہ پہلے بیان کر چکے ہیں۔
اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ لَيُسَمُّونَ الْمَلَائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثَى﴾ (جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں)۔ اور درحقیقت یہ نام رکھنے والا تو ان میں سے ایک خاص گروہ تھا، لیکن بظاہر اللہ تعالیٰ نے اس بات کی نسبت سب (کفار) کی طرف فرما دی؛ اس لیے کہ جو فرشتوں کو مؤنث نام دیتے تھے (وہ انہی کے ہم مذہب و ہم قوم تھے)، واللہ اعلم۔
اور لغتِ عرب میں یہ بھی جائز (اور معروف) ہے کہ کل (سب) کا ذکر کیا جائے اور اس سے مراد بعض (کچھ لوگ) ہوں، اور قرآنِ مجید میں اس کی نظائر بکثرت ہیں، واللہ اعلم۔
اور اللہ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا﴾ (حالانکہ ان کو اس کی کچھ خبر نہیں۔ وہ صرف ظن پر چلتے ہیں۔ اور ظن یقین کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا)، یعنی فرشتوں کے مؤنث نام رکھنے کے بارے میں ان کے پاس کوئی علم نہیں ہے؛ کیونکہ مذکر کے مقابلے میں مؤنث کی پہچان کا علم دو ہی طریقوں سے حاصل ہو سکتا ہے:
پہلا طریقہ: مشاہدہ ہے، یعنی انسان خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ اور معائنہ کرے اور مؤنث کو مذکر سے الگ پہچان لے، حالانکہ انہوں نے فرشتوں کا مشاہدہ ہی نہیں کیا، تو پھر وہ اس بات کو کیسے جان سکتے ہیں؟
اور دوسرا طریقہ: معجزے سے تائید یافتہ رسول کی دی ہوئی خبر ہے، جبکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو رسولوں پر ایمان ہی نہیں رکھتے۔
اور یہ بات استدلال اور علم کے ان تینوں طریقوں سے معلوم نہیں ہو سکتی جن کا ہم نے ذکر کیا ہے؛ پس جب ان کا یہ دعویٰ بغیر علم کے محض گمان پر مبنی ثابت ہوا، تو اسی کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ﴾ یعنی وہ اپنی اس بات میں جس کے وہ قائل ہیں صرف گمان کے پیچھے چلتے ہیں، اور ان کے گمان کی حقیقت وہی ہے جو ہم نے بیان کی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کا گمان حق کے مقابلے میں انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتا، تو اس کے دو تفسیری پہلو بنتے ہیں:
پہلا پہلو: یہ کہ جو گمان انہوں نے باندھ رکھا ہے وہ ان کے ذمے حق کی پیروی اور اس کے التزام کے واجب کو ان سے ساقط یا دور نہیں کر سکتا۔